Saturday, 31 January 2015

Posted by Ali Waqas

اسلام و علیکم سب سے پہلے تو یہ عرض ہے کہ اگر آپ کو اس میں کو ئی غلطی نظر آۓ تو مجھے لازمی بتائیں۔ آج میری ایک دوست سے بات ہو رہی تھی کہ عشق کیا ہے تو وہ محترم فرمانے لگے کہ عشق کی ایک مثال کربلا میں حٖٖٖٖضرت امام حؐسین رضی اللہ عنہ کی قربانی ہے ۔ میں خود غلامیِ امام حؐسین رضی اللہ عنہ پر فخر کرتا ہوں مگر مجھے اس سے احتلاف ہے جی ھاں مجھے احتلاف ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ ابھی تو اؐن کی غلامی کا دعوہ اور پھر اِس بات پر احتلاف کہ کربلا میں حٖٖٖٖضرت امام حؐسین رضی اللہ عنہ کی قربانی عشق کی مثال ہے۔ تو دوستو میرے نظریے میں یہ عشق نہیں بلکہ کچھ اور تھا کیا تھا ۔ یہ تو پتا نہیں پر عشق نہیں تھا کیونکہ اگر یہ عشق تھا تو پھر روزِِابد سے لے کر قیامت تک کوئ عشق نہیں کر سکتا سواۓ امام کے کیونکہ یہ قربانی کوئ دے ہی نہیں سکتا۔ پھر ہمارے عشق کے سب دعوے جھوٹے سب کا عشق باطل پھر ہمیں کوئ حق نہیں کہ ہم دعوہ عشق کریں۔ اس لیے یہ قربانی عشق نہیں بلکہ کچھ ایسا تھا کی جس پر خود عشق بھی حیران تھا کہ یہ میرے علاوہ اور کون سی طاقت ہے جو یہ سب کروا رہی ہے عشق خود آج تک پریٖٖشان ہے میری نظر میں تو عشق اؐس طاقت کے سامنے کچھ بھی نھیں اگر وہ سمندر ہے تو عشق ایک قطرہ اگر وہ صحراء ہے تو عشق اک ریت کا ذرہ اسی لیے عشق کا دعوہ ہمیں بھی ہے اور ھم سے پہلے لوگوں کو بھی تھا اور بہت سے لوگوں نے عشق میں بہت بہت کچھ کیا ہے میں ان کی مثالوں میں نہیں جانا چاھتا۔ پر میرا عقیدہ ہے کہ کربلا میں حٖٖٖٖضرت امام حؐسین رضی اللہ عنہ کی قربانی عشق سے بہت آگے کی بات ہے اگر وہ عشق ہوتا تو شاید آج ہم میں سے کوئ دعوہ عشق نہ کرتا آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment