ہوا دینے سے ڈرتے ہو بجھا دینے سے ڈرتے ہو چراغوں کو دریچوں میں جلا دینے سے ڈرتے ہو مجھے پتھر بھی کہتے ہو ہٹا دینے سے ڈرتے ہو وہ لوٹ آئے گی ٹکرا کر صدا دینے سے ڈرتے ہو محبت جرم ہے تو کیوں سزا دینے سے ڈرتے ہو یہ دھندلے نقش یادوں کے مٹا دینے سے ڈرتے ہو نگاہوں سے شناورؔ کو گرا دینے سے ڈرتے ہو
No comments:
Post a Comment