" شاید لوگ سینما بھی اسی لئے دیکھتے ہیں ، کتاب بھی اسی لئے پڑھتے ہیں ، دوسروں کے ساتھ باتیں بھی اسی لئے کرتے ہیں ........... کہ وہ کسی کے متعلق سوچنا چھوڑ سکیں - سوچنا ........ لیکن وہ چیزیں جن کے متعلق سوچنا ہم چھوڑ دیتے ہیں ، رات کو سوتے میں ہماری روح پر چھا جاتی ہیں - رات کو........ تاریکی میں ......... سپنوں میں....... سپنے ....... جو کچھ تو عالمِ خواب میں آتے ہیں اور کچھ بیداری میں ....... چلتے پھرتے ، باتیں کرتے، کتاب پڑھتے............ میں بھی تو ایک کتاب پڑھ رہی ہوں - ریتا کو ہنسی آ گئی ........ عین اسی طرح جس طرح کوئی اپنے اعترافِ شکست پر ہنسنے لگتا ہے......!!" (امرتا پریتم - افسانوی مجموعے "چھبیس سال بعد" کے افسانے "لوہے کا کیل" سے اقتباس)
No comments:
Post a Comment