Sunday, 25 January 2015

Posted by Fawad Ali Khan Utmanzai

عارف اس شخص کو کہتے ھیں جس کو اپنی ذات کا عرفان ھو جائے..." لطائفِ اشرفی میں ھے کہ عالمِ راز میں عارف کا دل ایک آئینہ ھے، جب وہ اس آئینے میں دیکھتا ھے تو اللہ کو دیکھتا ھے، اس کے دل میں ایک جگہ ایسی ھے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی اور اس میں جگہ نہیں پاتا ! طاھر مقّدسی کا قول ھے کہ اگر لوگ عارف کا نور دیکھ پائیں تو اس میں جل جائیں اور اگر عارف وجود کے نور کو دیکھ لے تو سوخت ھو جائے... یہ مقامِ فنا ھے...اس مقام پر عشق، عاشق اور معشوق ایک ھو جاتے ھیں .... حضرت نظام الدّین اولیاء رح فرماتے ھیں" عشق آیا، اور میرے رگ و ریشہ میں خون کی طرح داخل ھو گیا، عشق نے مجھے اپنے آپ سے خالی کردیا، اور میرے اندر دوست بھر دیا، میرے وجود کے سب اجزاء دوست نے لے لئے اور میرا نام ھی رہ گیا! باقی سب وھی ھے ...وھی ھے...وھی ھے !!!!!!

No comments:

Post a Comment