Sunday, 25 January 2015

Posted by Ayesha Ch

بعد مُدت اُسے دیکھا لوگو وہ ذرا بھی نہیں بدلا لوگو خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی اُس کے چہرے پہ لکھا تھا لوگو اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں رات بھر وہ بھی نہ سویا لوگو اجنبی بن کے جو گزرا ھے ابھی تھا کِسی وقت میں اپنا لوگو دوست تو خیر کوئی کس کا ھے اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا لوگو رات وہ درد مرے دل میں اُٹھا صبح تک چین نہ آیا لوگو پیاس صحراؤں کی پھر تیز ھوئی اَبر پھر ٹوٹ کے برسا لوگو

No comments:

Post a Comment