Tuesday, 24 February 2015

Posted by HaDeed Malik

کیسا امید کا سفر تھا مرا؟ اسکے در پر ھزار دستک دی نہ کھلا در نہ دل نہ بخت کا بھید صرف اتنا کھلا گداؤں پر بادشاھوں کے در نہیں کھلتے ــــــــ!!!!!

No comments:

Post a Comment