Tuesday, 24 February 2015

Posted by Hamid Noori

معاملہ یہ نہیں ہے کہ عالم اسلام کتنی مشکلات سے دوچار ہے، یا پھر وطن عزیز کو کتنے مسائل کا سامنا ہے.. سوچنا تو یہ ہے کہ آپ کا اپنا وجود کیا ان مسائل کے حل کے لئے مستقل کوشاں ہے؟ یا پھر آپ بھی باقی لاکھوں کروڑوں کی طرح صرف کمنٹری اور خطبے کا شوق رکھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آپ ہر وقت امّت و ملّت کی مشکلات کا رونا روتے رہتے ہیں، فیس بک اور اپنے صوفے پر بیٹھے عالمانہ تجزیات تو پیش کرتے رہتے ہیں مگر نہ ہی دعوت دین کے لئے باہر نکلتے ہیں اور نہ ہی غاصبانہ نظام کو بدلنے کی عملی کوشش کرتے ہیں. نہ قرآن حکیم پر اپنا وقت لگاتے ہیں اور نہ ہی رفاہ عامہ کے کاموں سے منسلک ہوتے ہیں.. نہ تو کسی محروم کے لئے تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں اور نہ ہی کسی بے روزگار کے لئے روزی کی کوشش کرتے ہیں.. اگر آپ ایسے ہی خود ساختہ درد دل رکھنے والے مسلم یا پاکستانی ہیں تو خوب جان لیجیے کہ مسائل آپ کے ارد گرد نہیں ہیں، بلکہ مسلہ آپ خود ہیں. آپ نے عمل کے میدان کو کلاس روم بنا دیا ہے اور نیک ہونے کی خود فریبی میں مبتلا ہیں__

No comments:

Post a Comment