کب تلک مُدعا کہے کوئی نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی غیرت عشق کو قبول نہیں کہ تجھے بے وفا کہے کوئی ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف کس کو درد آشنا کہے کوئی آرزو ہے کہ میرا قصئہ شوق آج مرے سوا کہے کوئی جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی ! شاعر: (ناصر کاظمی)
No comments:
Post a Comment