Monday, 2 February 2015

Posted by Ayesha Ch

کیا عجب رشتہ ہے درد اور محبت میں جس قدر محبتوں میں شدتیں مہکتی ہیں درد بڑھتا جاتا ہے کیا عجیب رشتہ ہے خواب اور حقیقت میں جس قدر بھی اچھے ہوں خواب ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کیا عجیب رشتہ ہے آنسوؤں کا بارش سے ہجر کی کہانی جب آنسوؤں سی لکھی ہو بارشیں نہیں رکتیں کیا عجیب رشتہ ہے راستوں کا منزل سے دل سے گر نہ چلتے ہوں لاکھ راستے بدلیں منزلیں نہیں ملتیں کیا عجیب رشتہ ہے لفظ کا خیالوں سے میں تیرے خیالوں میں گم اگر نہیں ہوتی لفظ ہی نہیں جڑتے کیا عجیب رشتہ ہے دل سے تیری چاہت کا لاکھ روکنا چاہوں دل کو تیری چاہت سے دل میری نہیں سنتا کیا عجیب رشتہ ہے موت ، زندگی کا بھی دل سے شاعری کا بھی دھڑکنوں سے سانسوں کا مجھ سے تیری آنکھوں کا تجھ سے میری باتوں کا روشنی سے راتوں کا کچھ سمجھ نہیں آتا ضبط آخری حد تک آزماۓ جاتے ہیں اور ایسے رشتوں کو ہم نبھاۓ جاتے ہیں

No comments:

Post a Comment