Monday, 23 February 2015

Posted by HaDeed Malik

کبھی کبھی ایک شدید خواہش چلو کسی کے گھر چلتے ہیں جس کے گھر کے دروازے پر دربانوں کا راج نہ ہو جس کے گھر پر یوں جانے میں ہم کو بھی کچھ لاج نہ ہو جس کے گھر کی دیواروں پر اُکتاہٹ کا رنگ نہ ہو جس کے ہونٹوں پر خوشبو ہو لیکن دل میں زنگ نہ ہو جس کی پیشانی چوڑی ہو لیکن سینہ تنگ نہ ہو جس کی روشن روشن آنکھیں ہم کو دیکھ کے کھل جائیں اتنی خوشی سے ملے وہ ہم سے جیسے صدیوں کے بچھڑے دو یار اچانک مل جائیں چلو کسی کے گھر چلتے ہیں جس کی بانہوں کے حلقے میں ذخم ہمارے سِل جایئں (فرحت عباس شاہ)

No comments:

Post a Comment