رات ہمارا غم شناس، تھا وہ ، مگر وہ تو نہ تھا دل زردگاں کے آس پاس، تھا وہ ، مگر وہ تو نہ تھا صاحبِ حرفِ التماس تھے وہ، مگر وہ ہم نہ تھے واقفِ کربِ التماس تھا وہ ، مگر وہ تو نہ تھا شہر کی ساری تہمتیں جس کو نہ رام کر سکیں خوف کی رُت میں بے ہراس، تھا وہ ، مگر وہ تو نہ تھا شوق کی رہگزار میں حاصل ِ شامِ جستجو! ایک یقیں نما قیاس، تھا وہ ، مگر وہ تو نہ تھا محفلِ دوستاں میں بھی روشنیوں کے درمیاں! صرف مرے لیے اُداس تھا وہ ، مگر وہ تو نہ تھا محسنِؔ بے نوا کے بعد، ماتمیانِ شہر میں ! بے سر و برگ و بے حواس تھا وہ ، مگر وہ تو نہ تھا
No comments:
Post a Comment