Sunday, 1 February 2015

Posted by Usman Khan

ہوا دینے سے ڈرتے ہو بجھا دینے سے ڈرتے ہو چراغوں کو دریچوں میں جلا دینے سے ڈرتے ہو مجھے پتھر بھی کہتے ہو ہٹا دینے سے ڈرتے ہو وہ لوٹ آئے گی ٹکرا کر صدا دینے سے ڈرتے ہو محبت جرم ہے تو کیوں سزا دینے سے ڈرتے ہو یہ دھندلے نقش یادوں کے مٹا دینے سے ڈرتے ہو نگاہوں سے شناورؔ کو گرا دینے سے ڈرتے ہو

No comments:

Post a Comment